نئی دہلی،18 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ میں ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار پردیپ سنتھالیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے اس وقت کے ایم ایل اے امیت مہتو کا ووٹ غیر قانونی قرار نہیں دے سکتے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دھیرج ساہو کوسپریم کورٹ کے اس فیصلے سے راحت ملی ہے۔۔ یہ معاملہ 2018 کے دو سالہ راجیہ سبھا انتخابات سے متعلق ہے۔بی جے پی امیدوار پردیپ سنتھالیا نے دھیراج ساہو کے انتخاب کو چیلنج کیا تھا۔ سنتھالیہ نے دلیل دی کہ جس دن اس وقت کے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ایم ایل اے امت مہتو نے راجیہ سبھا کے لئے ووٹ دیا تھا، اسی دن انہیں عدالت نے سزا سنائی تھی کہ ان کی قانون سازی کی رکنیت ختم کردی گئی ہے، لہٰذا ان کے ووٹ منسوخ کردیا جانا چاہئے۔
سنتھالیہ نے کہا کہ اگر امت مہتو کی اسمبلی رکنیت ختم ہوتی ہے تو پھر دھیرج ساہو کی شکست یقینی ہے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ سزا کے اعلان ہونے سے پہلے ہی جے ایم ایم کے ایم ایل اے نے ووٹ دیا تھا، لہٰذا یہ درست ہے۔ اس سے قبل جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے بی جے پی امیدوار کی درخواست خارج کرچکی ہے۔ اس کے خلاف بی جے پی امیدوار سپریم کورٹ گئے تھے۔